میاں نواز شریف کا سیاسی سفر ، میٹھا میٹھا ہپ ہپ ، کڑوا کڑوا تھو تھو

0
47
nawaz sharif -pervez musharraf Saqib nisar -ziaul haq-chaudhry iftikhar

میاں صاحب کی نا اہلی اور سزا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ماضی سے زرا مختلف دکھایی دے رہی ہے ، ن لیگی ووٹرز ، ہمددرد اور کارکنان کی جانب سے ” میاں نواز شریف ہماری زد ” کا نعرہ ہر جانب پوری آب و تاب کے ساتھ لگا یا جا رہا ہے ، اس ہی حوالے سے اپنا ایک زاتی تجربہ اور اس تجربے کے ماضی سے ملنے والے تانے بانے اپنی آج کی اس تحریر میں پیش کرنے جا رہا ہوں ، 6 جولایی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ مخصوص صفحات ملاحظہ کرنے کا شرف حاصل ہوا ،، جہاں پر ہر جانب ایک ہی سوال موجود تھا کہ جب احتسا ب عدالت نے فیصلہ سنانا ہی تھا تو 4 گھنٹوں کی تاخیر کی وجوہات کیا تھیں ۔
کہیں فیصلہ سنانے والے جج محمد بشیر پر شدید وار کیے جا رہے تھے تو کہیں ملکی اداروں کو ہدف تنقید بنایا جا رہا تھا ،، جبکہ 6 جولایی 2018 کی رات دن بھر ردِ عمل سننے بعد میاں صاحب کی لندن سے کی جانے والے پریس کانفرنس میں بھی اداروں اور عدلیہ کو سخت الفاظ سے للکارا گیا میاں صاحب کے الفاظ کچھ ایسے تھے “قوم پس ِ پردہ قوتوں کے سیا سی مہروں کا شدید محاسبہ کرے گی ،مجھے سزا کہیں اور سے ہویی اور مٹھی بھر جرنیل اور ججز اس ملک کا فیصلہ نہیں کر سکتے ” یہ الفاظ پچھلے کچھ عرصے میں میاں صاحب کی زبان سے کیی بار ادا ہو چکے ہیں ،، ان بیانات کو میں نے صرف اپنی بات واضح کرنے کے لیے تحریر کیا ہیں ،، 7 جولایی 2018 کو ایک نجی محفل میں ہمارے قابل احترام صحافی دوست سے ملاقات ہویی معمول کے مطابق حال چال پوچھنے کے بعد گفتگو سیاسی پٹری پر چل پڑی میرے محض ایک سوال پر کہ اس فیصلے کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ۔
ہمارے دوست غصے میں تلملا سے گیے اور کمال جذبات میں فرمانے لگے کہ ” کویی چوکیدار میرے گھر کے سربراہ کا انتخاب نہیں کر سکتا ” نا جانے کیوں یہ الفاظ میری قوت سماعت کو متاثر کرتے ہویے میرے دماغ میں حیرانی کی صورتحال اختیار کرگیے خیر میں نے کچھ اختلاف کے بعد گفتگو تمام کردی۔
موصوف کی اس بات نے ماضی کے تمام خاکے کھنگالنے پر مجبور کردیا ،، ، جب تحقیق کا عمل شروع کیا تو مجھے میاں صاحب کے کچھ ناقدین کے بیانات بھی دکھایی دییے جن میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا بیان کہ ” میاں صاحب آیی ایس آیی کی پیداوار ہیں ” اور ایک ٹی وی پرو گرام میں شیخ رشید اپنے مخصوص انداز میں یہ فرماتے ہویے دکھایی دیےکہ ” میاں صاحب خود جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں اور ہمیں جمہوریت کا دشمن کہتے ہیں ” جبکہ ہر جانب میاں صاحب کی عدلیہ مخالف تقریر بھی موجود تھیں ۔
ایک لمحے کے لیے تو دماغ سن سا ہو گیا کہ میاں صاحب ججز اور جرنیلوں پر اچھے ادوار میں پھول نچھاور کرتے ہیں جبکہ زوال پزیر حالات کا سارا الزام بھی ان ہی کرداروں پر عاید کر دیتے ہیں ۔
1981 میںمیاں صاحب نے ایک مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کے دست شفقت تلے سیاسی سفر کی پہلی سیڑھی یعنی پنجاب کی وزارت خزانہ حاصل کی اور اسی دور میں جنرل ضیاء الحق کی آنکھ کا یہ تارہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی پر چمکنے لگا اور 1988 میں دوبارہ مارشل لاء لگنے پر یہی منصب ایک بار پھر حاصل کرلیا ،، 1990 کے انتخابات میں خفیہ اداروں کی جانب سے سیاستدانوں میں بھاری رقوم تقسیم کرکے میاں صاحب کو وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کرانے کی باتیں بھی الزامات کی صورت میں گردش کرتی رہیں ،،، یعنی میاں صاحب کے پہلے دورِ عروج کا افتتاح مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور جرنیلوں کے دستِ مبارک سے ہی ہوا ۔

بعد ازاں میاں صاحب کے عروج پر ججز نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور غلام اسحاق خان کی جانب بد عنوانی کے الزام میں میاں صاحب کی عدالت عظمیٰ سے برطرفی کو اس وقت کے منصف اعلیٰ نسیم حسین شاہ نے 15 جون 1993 کو معطل کرتے ہویے میاں صاحب کو انکے منصب پر بحال کردیا ۔
اکتوبر 1999 کو میاں صاحب کے زوال میں دوسری کیل اس وقت کے سپہ سالار جنرل پرویز مشروف نے ٹھونکی ،اور فوجی بغاوت کے نتیجے میں میاں صاحب کو بر طرف کرکے پابند سلاسل کردیا گیا ، بعد ازاں اسی جرنیل نے میاں صاحب کو تمام مقدمات سے معافی دیکر سعودیہ عرب بھجوادیا ۔
ایک اور جج کا احسان میاں صاحب کو 2013 کے عام انتخابات میں لینا پڑا جب31 مارچ 2013 کونیب کی جانب سے 6 ارب روپے کی کرپشن پر الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا گیا جس میں شریف برادران کو انتخابات لڑنے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ،، تاہم اس معاملے پر اس وقت کے منصف اعلیٰ افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمشنر فخر زمان چوہدری کو گھر بھیج کے یہ انتخابات منعقد کرایے جس میں کھلم کھلا دھاندلی کی گیی اور میاں صاحب کو انتخابات میں فتح دلوایی گیی ۔
تاہم وقت کا پہیہ الٹا گھوما اور 2016 میں ایک اور منصف اعلیٰ میاں ثاقب نثار نے میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دیا جبکہ 6 جون 2018 کو ایک اور جج نے اپنے منصب سے وفاداری کرتے ہویے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں صاحب کو 10سال قید اور80 لاکھ پایونڈز جرمانے کی سزا سنایی۔
اتنی تفصیل بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میاں صاحب آج جن کو اپنی نا اہلی اور سزا کا ذمہ دار مانتے ہویے للکار ر ہے ہیں ، ماضی میں انہیں کے دستِ شفقت عروج و زوال کا مقابلہ اور مخالفین سے نبرد آزما ہو چکے ہیں جس کی واضح مثال معزز صحافی سہیل وڑایچ کی کتاب ” غدار کون ” کے باب ” سیاسی مسایل ” میں میاں صاحب کاوہ بیان ہے جس میں میاں صاحب فرماتے ہیں کہ ” ہم نے فوج اور آیی ایس آیی کی ہدایت پر اپنی حزب اختلاف بے نظیر بھٹو پر احتساب کا سخت ترین طریقہ اختیار کیا ”
یعنی گھر کا سربراہ خود چوکیداروں کے رحم و کرم پر پروان چڑھا ہوا وروہی سربراہ زوال میں چاکیداروں پر شدید تنقید شروع کردے تو اسے آسان الفاظ میں کھلی “منافقت ” کہتے ہیں ،،،

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.