ووٹ کس کا ۔۔۔ فیصلہ عوام کا ۔۔۔ عوام کی نظر ۔۔۔نعروں پر نہیں ۔۔ کارکردگی پر

0
76

انتخابات کا موسم شروع ہو چکا ہے ،،، تو ہر جانب سیاسی جماعتوں کے امیدواران اپنی ماضی کی خدمات پر عوام سے قیمتی ووٹ مانگتے پھر رہے ہیں ،،،،
لیکن ہر انتخابات میں کیے جانے والے وعدوں کو وفا نہ کرنا بھی سیاسی کھلاڑیوں کا وطیرہ ہے ،،،
ان انتخابات میں بھی معاملات کچھ ایسے ہی دکھایی دے رہے ہیں لیکن عوام میں پیدا ہونے والے سیاسی شعور کے باعث امیدواروں کو حلقے میں تلخ سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ،،،
اسکی ایک خاص وجہ ہر انتخابات کے بعد عوام کے مسایل میں کویی تبدیلی نہ آنا ہے ،،، اگر صرف 5 سالہ دور پر ہی نظر ڈالی جایے تو ہربار اسمبلی میں پہنچنے والی جماعتوں کا حال کچھ ایسا ہے ،،،

مسلم لیگ ن کی بات کی جایے تو وفاق اور صوبہ پنجاب میں اس جماعت نے 2013انتخابات میں واضح اکثیر یت کے ساتھ حکومت بنائی وفاق میں تو مسلم لیگ ن کوئی خاص کارکردگی نہ دکھاسکی بلکہ بے طابطگیوں کا بازار گرم رہا جس کے باعث پارٹی کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو وزیراعظم کی کرسی اور پارٹی قیادت سے ہاتھ بھی دھونا پڑا ،،،اس کے بر عکس صوبائی حکومت نے پنجاب کے تمام شہروں کو چھوڑ کر صرف لاہور پر بھر پور توجہ مرکوز رکھی اور صوبائی دارلحکومت کو پیرس نماں شہر بنادیا لیکن بعد ازاں بارشوں نے لاہور میں ہونے والی ترقی کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی

اب زرا بات ہوجائے پاکستان تحریک انصاف ،،، یہ جماعت2013 کےبعد سے عوام میں تیزی سے مقبولیت پاتی جا رہی ہے ،، اور کے پی کے میں 5 سالہ حکومتی دور بھی گزار چکی ہے لیکن اس جماعت کی کاکردگی بھی قدرے مختلف دکھائی نہیں دیتی کے پی کے میں محض پولیس کا نظام ٹھیک کرنے کے دعوے کرنے والی یہ جماعت تعمیری طور پر صوبے میں کوئی خاص تبدیلی نہ لا سکی ،،،

اب باری آتی ہے ملک کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اس جماعت کی تو کیا ہی بات کریں جناب ،،، وزرا قلمدان سنبھالنے کے بعد حلقے تو دور کی بات صوبے اور ملک میں بھی نظر نہیں آتے اور سب سے تعجب کی بات یہ ہے کہ اس جماعت کے پارٹی اجلاس بھی ملک میں نہیں بلکہ دبئی میں منعقد کیے جاتے ہیں ،، اور تو اور ایک ہزار ارب کے تعمیراتی بجٹ کے با وجود سرکاری اسکولوں میں مویشی بندھے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنے والے مریض سڑک پر لیٹے نیم ڈاکٹرز کے تجربات کا نشانہ بنتے دکھائی دیتے ہیں ،،،

کراچی کی ایک جماعت جس نے آمریت میں عروج اور جمہوریت میں ہمیشہ زوال دیکھا اس جماعت کا نام ایم کیو ایم ہے یہ جماعت متوسط طبقے سے نوجوانوں کو ایوانوں تک پہنچاتی ہے لیکن پھر قائدین جواب تک طلب نہیں کرتے کہ کل تک سائیکل پر گھومنے والے حضرات کے پاس بڑی بڑی ،چمکتی دھمکتی گاڑیاں کہاں سے آئیں ،،، جبکہ اس جماعت کی ناقص کارکردگی کی مثال کراچی میں موجود سیوریج کا ناقص نظام اور ہر گلی کوچے میں موجود کچرے کے ڈھیر ہیں ،،،

کراچی کی سیاسی اشرافیہ پر 3 مارچ 2016کوابھر نے والی جماعت پاک سر زمین پارٹی ہے ویسے تو یہ جماعت اپنا پہلا انتخاب لڑنے جا رہی ہے لیکن اس جماعت میں موجود رہنمائوں پر قتل و غارت ، بھتہ خوری ، بوگھس ملازم ہونے اور ملک سے غداری کے الزامات اور مقدمات موجود ہیں ،،

اور آخر میں زرا بات کرلی جائے اتحاد بین المسلمین کی علمبردار جماعت متحدہ مجلس عمل کی تو یہ جماعت ماضی میں اسمبلیوں کے اندر موجود رہی ہے لیکن بعد ازاں اختلافات کی تیز ہوا میں یہ جماعت سوکھے پتوں کی مانند بکھر گئی لیکن ایک بار پھر یہ سیاسی تنظیم تمام دینی حلقوں کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ لیے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات 2018میں بھر پور حصہ لینے کی تیاریوں میں مصروف ہے ،،،

ماضی چاہے جیسا بھی ہو لیکن حتمی فیصلہ عوام کا ہی ہوتا ہے ،، اب دیکھتے ہیں کہ عوام ان جماعتوں میں سے کس کے نظریات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا قیمتی ووٹ عنایت کرتی ہے یہ تو 25جولائی کو ہی معلوم پڑے گا

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.