کالے پیسے کی جنت

0
161
cayman islands K electric tax free haven

پیسہ آج کی دنیا میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے خواہ وہ کالا ہو یا سفید ، ، ہر با اختیار شخص کو محض پیسے سے ہی غرض ہوجاتا ہے چاہے اس پیسے کو بنانے کے لیے اس کو اپنی قوم ، ملک اور سلطنت کو سرن دھوکا ہی کیوں نہ دینا پڑے ،، لیکن کالا پیسہ کمانے سے زیادہ کالا پیسہ چھپانے کا خوف ہر با اختیار شخص اور ہر کالے کرتوت انجام دینے والے شخص کے دل میں موجود رہتا ہے ،، جبکہ اس ہی کالے دھن کو چھپانے کے لیے عالمی طاقتوں نے با قاعدہ طور پر کچھ مقامات مختص کر دیئے ہیں جہاں پر دنیا بھر میں کالا دھن بنانے والی نام نہام سیاسی ، سماجی اور کاروباری شخصیات اپنا پیسہ محفوظ تصور کرتی ہیں ،، جس کی واضح مثال حال میں منظر عام پر آنے والی کچھ لیکس ہیں ،، جن میں پاناما لیکس، دبئی لیکس اور پیرا ڈائز لیکس شامل ہیں جبکہ کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاںکا کالا دھن ابھی منظر عام پر آنا باقی ہے جن میں سر فہرست کیمن جزائر ہے ،، یہ ریاست مغربی کیریبین میں واقع برطانوی سمندر پار علاقہ ہے ،،، اس ریاست کا کل رقبہ 264کلو میٹر پر واقع ہے جس میں 1.6فیصد آبی حصہ ہے ،، اس سلطنت کا دار الحکو مت جارج ٹائون نامی علاقہ ہے ، 2010کی مردم شماری کے مطابق اس سلطنت کی کل آبادی 54ہزار 878ہے ،، جس میں 40فیصد افریقی یورپی ،20فیصد یورپی 20فیصد افریقی اور 20فیصد دیگر قو میتوں کے لوگ آباد ہیں ،، اس ملک کی کرنسی 146جزائر کیمن ڈالر 145ہے ،،، اس سلطنت کا قومی ترانہ “خداملکہ کو سلامت رکھے “جبکہ قومی نغمہ ـ”محبوب آئل لیمن ہے “یہ سلطنت دنیا بھر میں کالا دھن بنانے والوںکی جنت سمجھی جاتی ہے ،، جبکہ اس سلطنت کا معاشی طور پر معانت میں سب زیادہ کردار ادا کرنے والے ملک میں اسرائیل سر فہرست ہے ،، جبکہ کیمن جزائر کے کارندوں کی کارستانیوں پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر دکھائی دے رہی ہیں ،، حال ہی میں پاناما لیکس کی ایک سنوائی کے دوران پاکستان کے سابق وزیر نجکاری جناب دانیال عزیز صاحب بھی پاکستانی سیاستدانوں کی کیمن جزائز میں خفیہ دولت کا اشارہ دے چکے ہیں ،، جبکہ ماضی میں سلطنت پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور سابقہ دارلحکومت کراچی میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے “کے الیکٹرک “کے حوالے سے بھی کچھ چونکا دینے والے حقائق منظر عام پر آچکے ہیں ،، بعض حقائق کے مطابق کے الیکٹرک کو کراچی میں اپنا کام بہتر کرنے کے لیے Al abrajنامی ایک بڑے ادارے کے حوالے کیا گیا تھا در اصل al abraj ایک تصوراتی خاکہ تھا،، کے الیکٹرک کا معاہدہ در اصل AL jumiaنامی ایک کمپنی سے طے پایہ تھا یہ کمپنی بھی بعد ازاں ایک تصوراتی خاکا ہی معلوم ہوئی ،، اور اگر فرضی طور پر یقین کر بھی لیا جائے تو al abrajیا al jumiaنام کی کسی کمپنی کا کوئی وجود ہے بھی تو اس کمپنی سے معاہدہ پاکستان کے قانون کے تحت صرف جنریشن اور ڈسٹریبیوشن کے لیے کیا گیا تھا اس معاہدے میں کہیں بھی کمپنی کی کسی ایک چیز کی بھی ملکیت فراہم کرنے کا ذکر نہیں تھا اس کے با وجود بھی اس کمپنی نے کراچی بھر سے 800ارب سے زائد مالیت کے تار اتار کر فروخت کر ڈالے اور اس کھلے عام نقب زنی پر پاکستان کا کوئی سیاستدان کچھ بولنے سے بھی قاصر رہا اور اس al jumiaنامی فرضی ادارے کا سب سے بڑا مالی معاون Denim investment نام کا ایک ادارہ ہے جس کے تمام شیئرز اسرائیلی شخصیات کے پاس ہیں ،،، جبکہ حال ہی میں ایک اور بڑا دھوکہ پاکستانی عوام کو بن قاسم الیکٹرک پاور پروجیکٹ کی صورت میں دیا گیا ،

یہ منصوبہ 2.2بلین کی لاگت سے پاکستان میں لگا گیا ،، اس منصوبے کے 50فیصد حصص “پاک چائنا کمپنی “کے پاس ہیں جبکہ 49فیصد حصص کی مالک “المرقاب کیپیٹل “نامی ایک کمپنی ہے جس کے مالک پاناما کیس میں میاں صاحب کو خط فراہم کرنے کے واقعے سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے “شہزادہ شیخ جاسم”ہیں جبکہ اس کمپنی میں میاں محمد نواز شریف کے خاصم خاص سیف الرحمان حصہ دار ہیں ،، اس منصوبے کو چلانے کے لیے 45لاکھ ٹن کوئلے کی ضرورت تھی جو کہ با آسانی تھر میں موجودکوئلے کے 175بلین ٹن کے ذخائر سے حاصل کیا جا سکتا تھا لیکن اس منصوبے کے لیے ایک نام نہاد ٹینڈر ہوا جس میں اس کوئلے کی فراہمی کا سارا معاہدہ دو اسرائیلی کمپنیوں ،،Robin brothersاور Gallon coorکے سپرد کردیا گیا جس میں یہ شرط رکھی گئی کہ کوئلے کی قیمت کا اتار چڑھائو بجلی کی قیمتوں کے ساتھ ہوگا ،، اور اس معاہدے پر کالے دھن کے حامل لوگوں کی جنت “کیمن جزائر ” میں جشن منایا گیا ،، ،،حال ہی میں امریکی اور آئی ایم ایف کی رپورٹس میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اس “کیمن جزائر “سے حاصل ہونے والی رقم دنیا بھر میں دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے ،،، اس تمام معاملے سے دنیا بھر میں Rawاور موساد کے ناپاک عزائم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ،، اور اس گھنائونے کھیل کے تانے بانے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں بھی دکھائی دے رہے ہیں جو عوام ِپاکستان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے ،،،

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.