لوگ پیسہ لوٹ کر باہر چلے جاتے ہیں ، بیرون ملک اکایونٹس طاہر نہ کرنے والون کا پتا چلنا چاہیے ،چیف جسٹس

0
6

غیر قانونی طریقے سے رقوم کی بیرون ملک منتقلی روکنے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان متحرک ،قانونی رکاوٹ دور کرنے کے لیے میکانزم بنانے کا عندیہ دی دیا

،، سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس آف پاکستان کے زیر صدارت بیرون ممالک اکایونٹس اور اثا ثہ جات کیس کی سماعت ہویی جس میں ایف آیی اے  کے سربراہ بشیر میمن اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہویے ،، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے حکم دیا تھا کہ بتاییں کتنے لوگوں کے غیر ملکی اکایونٹس ہیں ،جن لوگوں نے غیر ملکی اکایونٹس ظاہر نہیں کیے انکا پتا چلنا چاہیے ، ، کیوں کہ اربوں روپے مختلف ممالک میں پڑے ہیں ،،لوگ پیسہ لوٹ کر باہر چلے جا تے ہیں ،،

ڈی جی ایف آیی نے عدالت کو بتایا کہ ،،لوگ 1992 کے تحت پیسہ باہر لے کر گیے صرف متحدہ عرب امارات میں 4221 لوگوں کے اثاثے اور اکایونٹس ہیں ،،
ان میں قانونی اور غیر قانونی دونوں طریقوں سے پیسہ باہر لے جانے والے لوگ شامل ہیں جبکہ پیسہ ہنڈی کے زریعے بھی باہر جاتا رہا ،،

بشیر میمن نے مزید بتایا کہ ،، ہمارے پاس قانونی معاونت کا اختیار نہیں ہے ، بیرون ممالک پڑا ہوا پیسہ واپس لانے کے لیے کویی راستہ بنانا ہوگا ،،

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دییے کہ ،، قانونی رکاوٹ کو دور کر نے کے لیے راستہ نکالنا پڑے گا ،اصل مقصد پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا ہے ،،
بعد ازاں عدالت نے وکیل احمر بلال صوفی کی عدم دستیابی پر سماعت یکم اگست تک ملتوی کردی

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.