بانیانِ پاکستان کا اثاثہ ،پاکستان انٹرنیشنل ایر لاین ، غاصبوں کے شکنجے میں

0
28
Pakistan international airlines

سلطنت پاکستان ہو یا دنیا میں نمایاں مقام رکھنے والی کوئی بھی ریاست ،،،ہر ملک اپنے اداروں کے بل بوتے پر دنیائے معیشت میں اپنا لو ہا منواتا ہے ،، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں موجود چند عناصر اس پاک سر زمین کو ان اداروں کی بے پناہ خدمات سے محروم کرتے ہوئے انہیں فروخت کرنے کے در پے ہیں ،،،
جن میں ملک کے وہ ادارے بھی شامل ہیں جنہیں ماضی میں پاکستان کا فخر بھی کہا جاتا رہا ہے ،،ان میں سے ایک ادارہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (PIA) بھی ہے ،،، جس کی نجکاری کے حوالے سے حال میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے بل بوتے پر سیاسی منظر نامے میں مہمان کردار کے حامل سابق وزیر مملکت برائے نجکاری دانیال عزیز صاحب کا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان سامنے آیا کہـ۔جس کے پاس پیسے ہیں وہ آئے اور ہم سے پی آئی اے لے جائے ، جب کے موصوف وسیع تجربہ سیاست رکھنے کے با وجود یہ جاننے سے قاصر رہے کہ کوئی بھی حکومت پاکستان کے اس منافق بخش ادارے کو فروخت کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ،،،، جس کی وجہ پی آئی اے کے ماضی اور حال کے صفحات میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے ،،، علیحدگی کے وقت پاکستان کے پاس کوئی ائیر لائن موجود نہیں تھی ،، یہاں پر ایک ائیر لائن چلا کرتی تھی جسے Orientائیر لائن کہا جاتا تھا یہ ائیر لائن 17جہاز اور بے شمار propertyکی حامل تھی ،،یہ ائیر لائن جمع پونجی تھی خون پسینہ تھا بانی پاکستان حضرت ابو الحسن اصفہانی کا ،،،حضرت ابو الحسن اصفہانی نے یہ orientائیر لائن ، شپنگ لائن ، جوٹ ملز ،ٹی گارڈنز ، رئیل اسٹیٹ اور امریکہ میں موجود پاکستانی سفارت خانہ جو اس وقت ان کا گھر ہوا کرتھا جو موجودہ حیثیت کے لحاظ سے 50ملین ڈالرز کا ہے ،، سب کچھ کل ملاکر اس وقت کے 5ارب ڈالر کا اثاثہ پاکستان کو تحفے میں دے دیا ،،، جو 1956ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت PIACبنا ،،اس پورے منظر نامے کا مقصد صرف اس بات کی نشاندہی کرنا تھا کہ یہ ادارہ بانی پاکستان کا اثاثہ ہے ،

، اگر پھر بھی کوئی کم طرف اس ادارے کو جبرن بیچنے کا ارادہ کر چکا ہے تو ان کو اس بات کا خیال رہنا چاہیے کہ یہ ادارہ کسی بھی صورت بل کی صورت میں نہیں بکے گا بلکہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کا کٹھن مرحلہ طے کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے ہر صورت ترمیم لانا پڑے گی اور اس کے بعد ہی اس ادارے کا سودا ہونا طے پائے گا ،،جس قانون کے تحت ابو الحسن اصفہانی صاحب نے اس ادارے کو پاکستان کے حوالے کیا اس کو تاریخ کے اوراق میں Hubba Actکے نام سے جانا جاتا ہے ،،جبکہ اس قانون میں واضح طور پر ایک شرط موجود ہے کہ یہ ادارہ تا حیات پاکستان کا اثاثہ رہے گا،،، بعد ازاں حال ہی میں بے ضابطگی،جھوٹ اور منافقت کے باعث ماتھے پر نا اہلی کا داغ لگانے والے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی پی آئی اے پر پڑھنے والی بری نظر اور نجکاری کے خطرے کے پیش نظر جمہوریت کا سہرا ماتھے پر سجائے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنمائوں پر مشتمل ایک ٹیم نے ریا ست کا پورا اختیار استعمال کرتے ہوئے کمپنی آرڈیننس 1984،ایس ای سی پی ایکٹ 1997،سیکیورٹی ایکٹ 2015،ایس ای سی پی ایکٹ 1969اور آئین کے آرٹیکل 23اور 24کے تحت پی آئی اے کے ملازمین کو اس ادارے میں12فیصد کا مالک بنا دیا ، یعنی کہ مالکان کی مرضی کے بغیر تو کوئی ادارہ بک ہی نہیں سکتا ،، پیپلز پارٹی کی اس تاریخی کامیابی کے بعد انتقامی کارروائی کرتے ہوئے اس عظیم کام کو سر انجام دینے والے رہنمائوں کو شہر قائد میں چن چن کر قتل کر دیا گیا، جن میں عامر شاہ ، معراج خٹک اور امین میمن بھی شامل ہیں ،،

اگر پی آئی اے کے بنیادی اسٹرکچر پر نظر ڈالی جائے تو قانون کے مطابق اس ادارے کا سربراہ ریٹائرڈ ائیر مارشل ہوگا ،، جبکہ ڈیفنس سیکریٹری ،پی آئی اے سی بورڈ کا چیئر مین ہوگا ،،اور ایم ڈی آپ کسی تجربہ کار شخص کو رکھ سکتے ہیں ،،، 1988سے اب تک پی آئی اے میں دو بہترین ایم ڈی آئے ، ایک اعجاز ہاروں صاحب جبکہ دوسرے حال ہی میں عہدے سے مستعفی ہونے والے آغا جعفر صاحب ، ان لوگوں کے ادوار میں پی آئی اے نے 1.5بلین ڈالر کا منافہ حاصل کیا تھا ،، جبکہ موجودہ حالات کے تناظرمیں پی آئی اے کے اندر موجود تمام لوگ نا تجربہ کار ہیں ،، ماضی میں جب تک ریٹائرڈ ائیر مارشلز پی آئی اے کے سربراہ رہے ، ، تب تک پی آئی اے پہلے اور دوسرے نمبر پر جاتی رہی ،، جیسے ہی سیاستدانوں کے مسلط کردا لوگوں نے اس کی کمان سنبھالی پی آئی اے کی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی گئی ،،یہ تو تھے مسائل اگر حل تلاش کیا جائے تو اس معاملے میں بھی اس پاک مٹی سے محبت کرنے والوں کو زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیوں پی آئی اے پر موجود تمام قرضہ جو 300 ارب روپے سے زائد ہے محض 1سال میں ادا کیا جا سکتا ہے،،جس کے پہلے قدم میں اس ائیر لائن کو ریٹائرڈ ائیر مارشل کے حوالے کرنا ضروری ہے ،، دوسری بات یہ کہ پی آئی اے میں ہر بار مزدوروں کو بوجھ کہا جاتا ہے جبکہ مزدور بوجھ نہیں ہیں ،، کیونکہ پی آئی اے کے مکمل ریوینیو کا 80فیصد حاصل حج اور عمرہ آپریشن سے حاصل کیا جاتا، ،، حج آپریشن پہ ہی ایک کمپنی جس کا مالک ہے شیخ احمد حمدا لحسیبی جو پی آئی اسپانسر جی اسی اے اور سعودی حکومت کا سائے میںاپنے ناپاک عزائم سر انجام دے رہاہے ،، اس شیخ کو پی آئی اے کے ریونیو کا 10فیصد دیا جاتا ہے بھتے کی صورت میں ،، جبکہ پی آئی اے کا تمام اسٹاف جا کر آپریشن سنبھالتا ہے ،، جبکہ شیخ احمد حمدا لحسیبی نے کبھی گرئونڈ ہینڈ لنگ آپریشن فراہم نہیں کیا ،،

، جب پی آئی اے کا اسٹاف جاکر گرائونڈ آپریشن سنبھال رہا ہے تو اس شیخ کو کس چیز کے پیسے ادا کیے جا رہے ہیں ،، اگر آپ جی ایس اے کا ایک سال کا comission نکا لیں تو وہ تقریبا پی آئی اے کے مزدوروں کی ایک سال کی تنخواہ کے برابر ہے ،، جبکہ اگر پی آئی اے کو گہرائی سے جانچا جائے تو پی آئی اے کے 140ڈیسٹینیشن ہیں ،،69پہ جا رہی ہے ،، یہ صرف روٹس حاصل کرنے کے لیے ،، دیگر نجی ائیر لائنز کو 40سال کا طویل عرصہ درکار ہوگا ،، اور ان روٹس کی مالیت 100ارب ڈالر ہے ،، اگر آ پ مارکیٹ میںپی آئی اے کو بیچنے جائیں گے تو اس کی Good will بھی ساتھ میں جائے گا ،، پی آئی اے ایک انسٹیٹیوشن تھاجس پہ اربوں ڈالر خرچ کرکے اس کو باقاعدہ تنظیم بنایا گیا ،،دوسری جانب غورطلب بات یہ ہے کہ کسی بھی ائیر لائن کی دو پہییے ہوتے ہیں ایک پہیہ ہوتا ہے passengerجبکہ دوسرا پہیہ ہوتا ہے cargo operations،،کارگو نکالتا ہے فیول چارجز ،،پیسنجر ہوتا ہے پروفٹ،
جبکہ حکومت نے ایک گہری سازش کے تحت یہاں 80نجی ائیر لائنز کو لینڈنگ دی جنہوں نے آپ کا سارا کارگو اور پیسنجر ہتھیالیا ،
جبکہ دوسری جانب amsterdumمیں ایک اسٹیشن افسر نے stay orderلیا کیوں کہ اس کا وہاں سے تبادلہ کیا جا رہاتھے ،، جبکہ پی آئی اے کی کوئی پروازamsterdumجاتی ہی نہیں تو وہاں اسٹیشن افسر کیاکررہا ہے ،،پی آئی اے کے تمام بکنگ آفس کس لیے کھلے ہوئے ہیں ،، جبکہ آپکی تمام ریزرویشن کمپیوٹر کی ہارڈ دکس میں محفوظ ہے ،، تو دنیا بھر میں قائم غیر ضروری بکنگ آفس بند کرکے غیر ضروری خرچوں سے اس ادارے کو بچایا جا سکتا ،،،

جبکہ ماضی میں جتنے بھی ادارے بیچے گئے ان کی فروخت کا ایک روپیہ بھی پاکستان میں نہیں آیا جس سے یہ بات واضح ہے کہ دراصل ادارے بیچے نہیں جا رہے بلکہ بیرونی آقائوں کو تحفے میں دیئے جا رہے ہیں
اگر اس ہی طرح پاکستان کے تمام اثاثوں کو بیچ دیا گیا غریب آدمی کا مکان تک محفوظ نہیں رہے یہ اقعی ایک لمحہ فکریا ہے ،،،

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.